چھین چھان
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - چھین جھپٹ۔ کوئی لے جائے اب کہاں دل کو ہر جگہ چھین چھان ہوتی ہے ( ١٩٠٣ء، سفینۂ نوح، ٢٠٥ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'چھیننا' سے مشتق حاصل مصدر 'چھین' کے ساتھ 'چھان' بطور تابع مہمل لگانے سے 'چھین چھان' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ملتا ہے۔ ١٨٨٧ء کو "جوہر انتخاب" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مؤنث